Ratti gali Lake

څاڅکې څاڅکې چه وریږی خوږ باران 

ستا یادونه ورسره وی راراوان

 آسمان پہ لمن خورې تورې وریزې

پکښې ځلیږی ماښامونه د هجران 

قرار سرحدی

Advertisements

میں کون ہوں

ابتداۓ آفرینش سے ہی انسان ‘میں کون ہوں ‘ کا جواب ڈھوندنے کی سعی کر رہا ہے اس سوال کے ادراک نے ہی انسان کو آگہی کی طرف راغب کیا اور یوں وہ ایک ایسی فکری و علمی سلسلے کا آغاز کرتا ہے جو اسے اس سوال کا جواب ڈھونڈنے میں مدد کر سکتا ہے ۔۔فلک کے بے کراں وسعتوں نے جہاں انسانی شعور کو متحیر کیا وہی زمین کے طول و عرض نے انہیں سامانِ فکر و معاش مہیا کیا

 تاکہ  وہ اپنی کھوج برقرار رکھ سکے اس کھوج میں انسان نے مظاہرِ کائنات پر غور و فکرکا آغاز کیا 

سبزہ و گُل کہاں سے آئے ہیں

ابْر کیا چیز ہے، ہَوا کیا ہے

 

انسان سوچنے لگا کہ آکر یہ کائناتِ رنگ و بو کس لیے ہے اگر میرے لیے ہیں تو میں کون ہوں اور یہ اہتمام کیوں ہے میری کائنات میں کیا وقعت ہے کیا کام ہے کیا مقصد ہے ؟مگر ان باتوں کا تعین تو تب ہی ممکن ہے کہ یہ معلوم ہوسکے کہ میں کون ہوں ؟لیکن زمانوں پر زمانوں کی یلغار کا سلسلہ جاری رہا اور میں وقت کے پردہِ سیمیں پرمختلف ناموں اور حوالوں سے ابھرتا رہا ڈوبتا رہا ۔۔زماں  و مکاں کی قید میں میرا یہ  معصوم سا سوال جوابوں کے صحرا میں سرابوں کے پیچھے بھاگتا چلا گیا مگر مطلق جواب ندارد۔۔۔۔ میری فکری ارتقاء کا تسلسل جاری رہا اپنی کھوج کو مختلف مظاہرِ کائنات کے تناظر میں جاری رکھا مختلف زمانوں اور مختلف تہذیبوں میں میرا مختلف مفہوم رہا لیکن من حیث القوم میں کون ہوں کا ایک متفقہ و مشترکہ جواب نہیں ملا اور انسان بٹتا ہی چلا گیا کوئی مذہب میں خود کو ڈھونڈتا رہا کوئی وطن اور قوم کو اپنی پہچان سمجھتا رہا پھر صنعتی اور سائنسی انقلاب نے انسان کی فکری ارتقا میں یک لخت ایک لمبی جست لگائی اور بہت سے سربستہ رازوں کا پردہ فاش کیا جس سے یہ ہوا کہ میں اس بھاگ دوڑ میں کائنات کی تسخیر کرتا چلا گیا جو میں کل تھا وہ آج نہیں ہوں اور جو آج ہوں وہ کل نہیں ہو نگا ان ایجادات نے جہاں انسانوں کو قریب تر کیا اور دنیا کو ایک گلوبل ویلج بنا دیا وہی  کائنات کے نت نئے جہتوں کو بھی دریافت کیا۔۔اگرچہ انسان آج کل کی نسبت ایک دوسرے کے زیادہ قریب ہے اور ایک دوسرے سے زیادہ واقفیت رکھتا ہے لیکن تیزی کے ساتھ بدلتی ہوئی تہذیبی روایات نیز سماجی حالات کی اوٹ سے اٹھتی ہوئی آندھیوں کے اچانک اور شدید حملے نے افراتفری اور انتشار کے سوا کچھ نہیں دیا اور جب انسانی صورتِ حال اخلاقی اور تہذیبی سطح پر اس درجہ بگڑتی ہے تو پھر انسان کی انسان سے کبھی کوئی ملاقات نہیں ہوا کرتی اور انسان اتنی بھیڑ میں بھی تنہا رہ جاتا ہے 

ناصر اس دیار میں
کتنا اجنبی ہے تو 

ٹی ایس ایلیٹ تو یہاں تک کہ گیا ہے کہ ”انسان کاغذ کے ان پرزوں کی مانند ہیں جن کو سرد اور یخ ہوائیں ادھر ادھر اڑاۓ پھرتی ہیں اور بس’۔۔۔

ہر تہذیبِ انسانی نے میں کون ہوں کا جواب دھونڈنے کی اپنی سی کوشش کی ہے جدید مغربی فلاسفہ کا بانی ژاک ڈریڈا نے کہا کہ ‘اندیشم پس ہستم یعنی میں سوچتا ہوں اس لئے میں ہوں’۔۔یعنی میں سوچ کے بطن سے وارد ہوا ہوں ۔۔شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال نے اپنی  پہچان کے حصول کے لیے خودی کا فلسفہ پیش کیا القصہ انسان نے اپنی سی کر دیکھی پھر متفقہ و مجرب جواب تاحال نہیں ملا۔۔لیکن   اس ساری تگ و دو میں اس ساری تلاش میں اس سارے ارتقائی سلسلے میں اگر ایک چیز زماں و مکاں سے مبرّا رہی سب انسانوں میں  مشترکہ رہی تو وہ تغیر تھی یعنی میں ازل سے تضادِ جمود رہا تجریدی طور پر بھی عملی طور پر بھی ۔۔شاید میں کون ہوں کے جواب تک کا سفر ہی اس کا جواب ہے میں کون ہوں کا جواب شاید یہی ہے کہ میں تغیر ہوں ۔۔

قرارسرحدی  

متبادل بیانیہ

متبادل بیانیہ

فیسبکیات

اگر آپ کے تصویر پر لائکس کی تعداد کم ہے تو اطمینان رکھیں غالب امکان یہی ہے کہ لوگ آپ کی خوبصورتی اور ‘مقناطیسی’ شخصیت سے حسد کرتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ آپ کو دیکھ کر آپ کے گرویدہ ہوجائیں اور جن لوگوں کی تصاویر پر لائکس زیادہ ہیں وہ اس لیے کہ بدصورت ہونے کی وجہ لوگ ہمدردی کے جذبے سے لائک کا بٹن دبا دیتے ہیں (جن میں سے اکثر خود بدصورت ہوتے ہیں اور بدصورت خوبصورت کی نسبت تعداد میں بھی زیادہ ہیں) ۔۔۔ اس لیے آپ خود کو ایک ممتاز،منفرد اور خوبرو حلقے کا رکن تصور کریں ۔۔۔

😀 😀

#متبادل_بیانیہ

ادھوری کہانی

میں جب کوئی کہانی لکھنے بیٹھتا ہوں 

تمہاری یادیں مجھے گھیر لیتی ہے 

ماضی کی دریچوں سے 

یادوں کا ایک سلسلہ

سارے کرداروں کے ہمراہ

میری کہانی کی دہلیز پہ 

دستک دینے لگتا ہے  

سب کرداروں میں تم ہی میرے دل کو بھا تے ہو

میں تمہیں لکھنا شروع کرتا ہوں 

تمہاری ہر ادا ہر انداز کو پرکھتا ہوں 

جیسے جیسے تمہیں لکھتا جاتا ہوں 

 آہستہ آہستہ تمہاری ذات کا سایہ مجھ پر گہرا ہوتا جاتا ہے 

باقی کردار ضمنی رہ جاتے ہیں 

تشنہ رہ جاتے ہیں 

میں اس کہانی میں تمہیں خود سے ملانے کی 

بھرپور کوشش کرتا ہوں 

سارے رسمیں توڑتا جاتا ہوں 

میری باغی محبت سے 

باقی کردار ہار جاتے ہیں 

سارے رستے طے کر جب میں 

کہانی کے اختتام تک پہنچتا ہوں 

تو ایک حقیقت

میرے سامنے آجاتی ہے 

کہانی میں  تم جیت گئے ہو 

سچ کا کیا کروگے تم 

کہانی ادھوری رہ جاتی ہے

 

قرار سرحدی

10/7/2016

Nizar Qabbani – The Greatest Love Poet

Definitive Thoughts

Over the past month, I’ve been reading a great deal of Nizar’s work. Nizar, for those of you who don’t know is a poet of Syrian decent. The Labanese Daily Star best described him when they wrote that his poetry is  “more powerful than all the Arab regimes put together.”

Nizar wrote about love in all its forms and its resulting consequences in a time and place where love, in its most primal (if that even exists) form, was an extremely taboo subject. And to be fair to the region, he wrote some ‘racey’ pieces even by today’s standard. I don’t really want to make this post about Qabbani, not that he doesn’t deserve one, but instead I’d like to share with you 17 pieces of poetry (some of which are only excerpts) that I enjoyed a great deal. Do keep in mind that he wrote in Arabic and as…

View original post 1,321 more words

خود کلامی

خاموشی اپنے آپ میں ایک شور لئے پھرتی ہے اور تنہائی میں یہ شور شدت اختیار کر جاتا ہے وہ باتیں جو باہر کے شور سے بہت عرصے سے دب کے بیٹھی ہوتی ہیں بین کرتی ہوئی باہر نکلتی ہیں ہر بات اپنے اندر ایک افسانہ لئے پھرتی ہے بات سے بات نکلتی ہے افسانے بنتے جاتے ہیں کوئی بات بھی اپنے افسانے کے ممکنہ انجام کو ماننے سے خائف ہے اس لئے وہ شور کرتی ہے اب ہر بات شور کرنے لگتی ہے شور بڑھتا جاتا ہے بے چینی بڑھتی جاتی ہے بال نوچے جاتے ہیں ہونٹ کاٹے جاتے ہیں قلم اُٹھایا جاتا ہے لکھنے کی کوشش کی جاتی ہے مگر اتنے شور میں کوئی کیا لکھ سکے گا۔ پھر اس شور میں ایک خوبصورت یاد کسی کونے سے سکوت کی شمع لئے نمودار ہوتی ہے جس کی حسین لمحوں کی روشنی ساری باتوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے وہ مدھم روشنی جیسے جیسے قریب آتی جاتی ہے ایک چہرہ بنتا جاتا ہے سب اس چہرے کو جاننے لگتے ہیں سب افسانوں کو اپنے آغاز اور انجام کا پتہ لگنے لگتا ہے ان کا شور معدوم ہوتا جاتا ہے میں مسکرانے لگتا ہوں اور کمرے کی دیواریں حیران ہیں کہ نہ کچھ بولا گیا ہے نہ کچھ سنا گیا ہے ایسے اپنے ساتھ تو پاگل ہنسا کرتے ہیں

قرار سرحدی

11/7/2015

عقل کی سطْح سے کُچھ اور اُبھر جانا تھا

عقل کی سطْح سے کُچھ اور اُبھر جانا تھا
عِشق کو منزلِ پَستی سے گُزر جانا تھا
جلوے تھے حلقۂ سر دامِ نظر سے باہر
میں نے ہر جلوے کو پابندِ نظر جانا تھا
حُسن کا غم بھی حَسِیں، فکر حَسِیں، درد حَسِیں
اس کو ہر رنگ میں، ہر طور سنْور جانا تھا
حُسن نے شوق کے ہنگامے تو دیکھے تھے بہت
عِشق کے دعوئے تقدِیس سے ڈر جانا تھا
یہ تو کیا کہیے، چلا تھا میں کہاں سے ہمدم !
مجھ کو یہ بھی نہ تھا معلوُم کِدھر جانا تھا
حُسن اور عِشق کو دے طعنۂ بیداد مجاز
تم کو تو صِرف اِسی بات پہ مر جانا تھا
مجاز لکھنوی
(اسرارالحق مجاز)

واہمے شام کی اخبار سے لگ جاتے ہیں۔۔۔ عزیز فیصل

واہمے شام کی اخبار سے لگ جاتے ہیں
تندرست آدمی بیمار سے لگ جاتے ہیں
اس کی یادوں کی اگرگاڑیاں میں پارک کروں
دل کے گیراج میں انبار سے لگ جاتے ہیں
جن کو گھر والی نے لسی کے لیئے بھیجا تھا
وہ بھی میخانے کی دیوار سے لگ جاتے ہیں
رتجگے، خرچے، رقیبانہ جرح، فون پہ کال
یہ وہ آزار ہیں جو پیار سے لگ جاتے ہیں
ضبط تولید پہ آتا ہے اسی وقت یقیں
گھر میں جب لشکر جرار سے لگ جاتے ہیں
گھر سے باہر وہ نکلتی ہے فقط پیر کے دن
ہم بھی اک لائن میں اتوار سے لگ جاتے ہیں
منہ نہ صابن سے اگر دھو کے وہ باہر نکلے
داغ ان آنکھوں پہ دیدار سے لگ جاتے ہیں
بعض اوقات تری یاد کے چند آنے بھی
ڈالر و درہم و دینار سے لگ جاتے ہیں
سیٹھ ایسے بھی مرے شہر میں رہتے ہیں عزیز
مانگنے قرض جو نادار سے لگ جاتے ہیں

یادش بخیر۔۔۔۔ لیاقت علی عاصم

ہمیں پسند سہی، اب یہ رنگ مت پہنو
پرائے تن پہ ہماری امنگ مت پہنو
ہماری روح پہ پڑتی ہیں بدنما شکنیں
لباس پہنو، مگر اتنا تنگ مت پہنو
ہمارے ساتھ زمانہ بھی چل پڑے نہ کہیں
تم اپنے پاؤں میں، یہ جلترنگ مت پہنو
انا چمکنے نہ دے گی تمھیں کسی رت میں
تم آئینہ ہو مری جاں! یہ زنگ مت پہنو
فضا پرست ہے وہ، اس سے کیا کہیں عاصم
کہ لال اوڑھ لو اور سبز رنگ مت پہنو؟
(لیاقت علی عاصم)